7 Jul 2025

کیا شق القمر apparent splitting تھی؟



 دیکھیں شق القمر کا واقعہ جو ہوا ہے وہ اصل میں ہوا ہے یعنی واقعی چاند دو ٹکڑوں میں شق ہوا اور اس کا ایک ٹکڑا کوہ قیقعان نامی پہاڑ پر دیکھا گیا دوسرا ٹکڑا کوہ ابی قبیس پر۔ جبکہ کوہ حرا کا پہاڑ ان دو ٹکڑوں کے بیچ میں دیکھا گیا۔ 

(بحوالہ تفسیر فتح الرحمان)

شق کا معنی ہوتا ہے کسی چیز کو دو equal parts میں تقسیم کر دینا۔

پہلے میں یہ واضح کر دوں کہ ساحل عدیم اپنی ایک وڈیو میں جو بات کہہ رہے ہیں شق القمر کے متعلق وہ 

Apparent spitting 

ہے۔ یعنی اصل میں سلپٹ نہ ہونا لیکن ایسا نظر آنا۔ 

اور یہ ایسے ہوتا ہے جب ہم ایک planet پر کھڑے ہوں اور دوسرے planet یا چاند کو دیکھیں تو بیچ میں بلیک ہول کی گریوٹی کی وجہ سے مڑی ہوئی اسپیس کی وجہ سے وہ دوسرا پلینٹ یا چاند ہمیں دو الگ الگ جگہوں پر نظر آئے۔ اور ایسا لگے  جیسے وہ دو حصوں میں تقسیم ہو گیا ہو۔

29 Jun 2025

اللہ نور السماوات و الارض



 اللہ زمین و آسمان کو نور ہے۔ 

اس آیت کا مطلب سمجھتے ہیں کہ نور کیا ہے۔ 

نور ہم لغت میں کسی بھی ایسی کیفیت کو کہتے ہیں جو سورج چاند وغیرہ سے دوسری چیزوں پر پڑتی ہے۔ 

اب اگر آیت کے ظاہری معنی میں جائیں کہ اللہ نور ہے ۔ یعنی یہ جو نور ہمیں نظر آتا ہے یہ خدا ہے تو ناممکن ہے۔ 

کیونکہ اس کے کئی دلائل ہیں۔ 

پہلی یہ اگر یہ نور کوئی جسم ہے تو جس کا حادث ہونا یعنی بننا پیدا ہونا وغیرہ ضروری ہے اور اللہ کے لیے حادث ہونا ناممکن ہے ۔ وہ ازل سے ابد ہے۔ 

دوسرا یہ کہ اگر یہ نور کوئی صفت ہے تو تب بھی یہ خدا نہیں ہو سکتی کیونکہ اللہ کا وجود جو ہے وہ ہے اس میں کوئی اور صفت حلول نہیں کر سکتی یا داخل نہیں ہو سکتی۔ 

تیسرا یہ کہ

24 Mar 2025

qadr-kia-hey-asan-alfaz-me



 سورہ القدر، سورہ العلق کے بعد آتی ہے۔ 

مطلب یہ اشارہ دیا گیا کہ یہ تو پہلی وحی ہے آپ کے اوپر۔ یعنی العلق کی پانچ آیات۔ اصل میں ہم نے پورا کا پورا قرآن سماء الدنیاء کے بیت العزت پر۔ حاملین وحی فرشتوں کے ذریعے اتار دیا یے۔ وہاں سے اب جبرئیل تھوڑا تھوڑا کر کے آپ کے اوپر لاتے رہیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔

اصل میں تو پورا قرآن، کائنات کی تخلیق سے پہلے انسان کی تخلیق سے پہلے لکھ دیا گیا تھا لوح محفوظ پر۔ 

بس قدر کی رات میں، اس منصوبے کا فانئل مرحلہ ہوا۔ وہ یہ وہ سارا کا سارا قرآن لوح محفوظ سے حاملین وحی فرشتے نیچے سماء الدنیاء پر لے آئے۔ 

۔۔۔۔۔

یہ بات بھی طے ہے کہ پہلی وحی بھی لیلةالقدر ہی کی رات کو غار حراء میں نازل ہوئی تھی۔

۔۔۔۔۔۔ 

قدر کے دو معنی لیے گئے ہیں۔ 

6 Feb 2024

کھلونوں کی جنگ اور عقل منڈ ڈائنوسار ۔ 8

 


رات کے دس بج چکے تھے۔ آج ننھے بلاکس کے گھر دعوت تھی۔ اے بی سی والے بلاکس سبزیوں والے نوڈلز بنانے کے لیے بہت پرجوش تھے۔ لیکن انہیں کچھ دیر اور انتظار کرنا پڑا۔ 

"زوں زوں زوں ں ں ں!" 

دکان کے دروازے کے باہر ایک ٹرک آ کر رک گیا۔  سب کھلونے بہت غور سے دیکھ رہے تھے۔ دکان کا مالک اور دونوں ملازم ٹرک سے نئے ڈبے اتارتے گئے اور شوکیس کے پاس رکھتے گئے۔ پھر ایک ملازم نے ان نئے ڈبوں سے کچھ عیجب سے کھلونے نکالے۔ کچھ تو نیلے رنگ کے بدنما سے فوجی تھے جن کے سروں پر چھ کونوں والی سفید اور نیلی ٹوپیاں تھیں۔ ان سب کے ہاتھوں میں پستولیں تھیں۔

ایک اور ڈبے سے ایک خوبصورت سی مسجد  نکلی۔ اس کے اوپر ایک سرمئی اور ایک زرد رنگ کا گنبد بہت اچھا لگ رہا تھا۔ 

12 Dec 2023

Ghaza , غزہ کے لیے کیا کریں؟


 

مجھے نہیں معلوم کہ اس وقت 57 ملکوں کے سربراہان اور ان کی افواج کیا سوچ رہی ہیں؟ ہمارے ملک میں کہا جاتا ہے کہ قتال و جہاد صرف اہل اقتدار کی مرضی سے ہونا چاہیے۔ سو سب دینی و سیاسی راہنما ابھی تک بیانات یا امداد کی حد تک محدود ہیں۔

ایسا محسوس ہوتا ہے دنیا میں اس وقت کوئی مسلمان نہیں بچا۔ جو ہیں وہ فلسطین میں شہید ہو رہے ہیں بس۔ وہی ہیں مسلمان۔ باقی روئے زمین پر کوئی بھی مسلمان موجود نہیں یا کوئی ایک بھی مسلمان حکمران موجود نہیں جو اس قتل عام کو روک سکے۔ اگر واقعی میں کوئی اصل مسلمان ہوتا اس وقت تو اسرائیل کی یہ جرات ہوتی کہ چھوٹے چھوٹے بچوں کو شہید کرے؟ ان کا کھانا پانی بند کرے اور انہیں ایک ایک نوالے کا محتاج بنائے؟

آخری ترکی خلیفہ عبدالحمید یاد آتے ہیں جنہوں نے کہا تھا میں فلسطین کا ایک ذرہ بھی ان یہودیوں کو نہیں دوں گا۔

یہاں میں صرف اتنا کہنا چاہتی ہوں کہ یا تو آپ ظالم کا ہاتھ روکنے والوں میں سے ہوتے ہیں یا پھر ساتھ دینے والوں میں سے۔ ہم جو بس خاموش ہیں جان لیں کہ ہم ظالم ہیں۔ ہم جو اپنے آپ کو نیوٹرل ظاہر کر رہے ہیں جان لیں کہ ہم قاتل ہیں۔
یا آپ قاتل ہوتے ہیں یا پھر قتل ہونے والے۔ یا آپ ظالم ہوتے ہیں یا پھر وہ جن پر ظلم کیا جا رہا ہو۔ کیا ہم پر اس وقت ظلم کیا جا رہا ہے؟ نہیں۔
کیا ہم فلسطین کے قتل عام کو روک رہے ہیں؟ نہیں۔ اس کا مطلب ہم قاتل ہیں۔

2 Dec 2023

ننھے بندر اور زرافہ


 

ایک جنگل میں بندروں کی ایک ٹولی رہتی تھی ۔ اس ٹولی میں دو بچّے بھی تھے ، جو اتنے شرارتی تھے کہ ان کے ماں باپ بھی ان سے بہت زیادہ تنگ آگئے تھے۔

اسی جنگل میں ایک ننھا زرافہ بھی رہتا تھا۔ وہ بہت ہی سیدھا سادا اوربھولا بھالا تھا۔ ایک مرتبہ چرتے چرتے وہ جنگل کے اس حصے میں آگیا جہاں بندروں کی یہ ٹولی درختوں سے پتّے اور پھل فروٹ توڑ توڑ کر کھانے میں مگن تھی ۔دونوں چھوٹے شرارتی بندروں نے زرافہ کو دیکھا تو انھیں حیرت ہونے لگی ۔ کیوں کہ ان بندروں نے کبھی ایسا کوئی بھی جانور نہیں دیکھا تھا۔ 
بندر کے ایک بچّے نے کہا:’’ ارے! دیکھو تو کتنا عجیب و غریب جانور ہے ، آؤ اسے چھیڑتے اور ستاتے ہیں۔‘‘

شہزادے کی سمجھداری



(گلستانِ سعدی سے انتخاب)

 ایک شہزادہ کم صورت تھا اور اس کا قد بھی چھوٹا تھا۔ اس کے دوسرے بھائی نہایت خوبصورت اور اچھے ڈیل ڈول کے تھے۔ ایک بار بادشاہ نے بدصورت شاہزادے کی طرف ذلّت اور نفرت کی نظر سے دیکھا۔ شہزادہ نے اپنی ذہانت سے باپ کی نگاہ کو تاڑ لیا اور باپ سے کہا ’’اے ابّا جان! سمجھ دار ٹھگنا لمبے بیوقوف سے اچھا ہے۔ ضروری نہیں ہے کہ جو چیز دیکھنے میں بڑی ہے وہ قیمت میں بھی زیادہ ہو۔ دیکھیے ہاتھی کتنا بڑا ہوتا ہے، مگر حرام سمجھا جاتا ہے اور اس کے مقابلہ میں بکری کتنی چھوٹی ہے مگر اس کا گوشت حلال

ہوتا ہے۔

ساری دنیا کے پہاڑوں کے مقابلہ میں طور بہت چھوٹا پہاڑ ہے لیکن خدا کے نزدیک اس کی عزت اور مرتبہ بہت زیادہ ہے (کیونکہ حضرت موسیٰ ؑ نے اس پہاڑ پر خدا کا نور دیکھا تھا) کیا آپ نے سنا ہے کہ ایک دبلے پتلے عقلمند نے ایک بار ایک موٹے بیوقوف سے کہا تھا کہ اگر عربی گھوڑا کمزور ہو جائے تب بھی وہ گدھوں سے بھرے ہوئے پورے اصطبل سے اچھا اور طاقتور ہوتا ہے!

بادشاہ شہزادے کی بات سن کر مسکرایا، تمام امیر اور وزیر خوش ہوئے اور اس کی بات سب کو پسند آئی۔ لیکن شہزادے کے دوسرے بھائی اس سے جل گئے اور رنجیدہ ہوئے۔

24 Nov 2023

کہانی: سونے کی چونچ



ماخوذ کہانی:  

ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک جنگل میں ایک مینا اور ایک چڑیا رہتی تھیں۔ دونوں کی آپس میں بہت دوستی تھی۔ وہ مل کر کھیلتیں اور مل کر کام کرتیں۔ ایک دفعہ چڑیا اڑتے اڑتے دور جا نکلی۔ اسے پیاس لگی تو وہ ایک پہاڑ میں سے بہتے ہوئے چشمے سے ٹھنڈا پانی پینے لگی۔ اس پہاڑ میں سے چند قطرے اس کی چونچ پر آن پڑے۔ اسے اپنی چونچ بھاری بھاری محسوس ہونے لگی اس نے ادھر ادھر سر جھٹکا مگر چونچ پر پڑا وزن کم نہ ہو سکا۔ اس نے پہاڑ سے سوال کیا۔ ا ے پہاڑ میری چونچ پر آخر اتنا وزن کیوں ؟ پہاڑ بولا، ننھی چڑیا۔ میں سال میں ایک دفعہ روتا ہوں۔ میرے آنسو سونے کے ہوتے ہیں۔ جب تم نے پانی پیا۔ اتفاق سے میرے آنسوؤں کے چند قطرے تمہاری چونچ پر پڑے اور تمہاری چونچ کے اوپر سونے کا خول چڑھ گیا ہے۔ چڑیا گھر واپس لوٹ آئی۔

اگلے دن سب پرندے چڑیا کو غور سے دیکھ رہے تھے۔ سونے کی چونچ کی چمک دمک ہی نرالی تھی۔ چڑیا سے سب سونے کی اس چونچ کا راز پوچھتے۔ چڑیا بھولی بھالی ساری کہانی سنا دیتی۔ جنگل میں چڑیا سونے کی چونچ والی مشہور ہو گئی۔ سب اس کی خوبصورتی کی تعریف کرنے لگے۔ باقی تمام چھوٹے پرندے بھی چڑیا سے دوستی کے خواہش مند ہو گئے۔

کہانی: چالاک ہرن

Kids Story No. 238 - Makhooz Kahani 


ماخوذ کہانی:

 چالاک ہرن نہ صرف اپنی پھرتی اورتیزی کی وجہ سے جنگل میں مشہور تھا بلکہ اپنے نام کی طرح بے حد چالاک بھی تھا۔ ایک دن وہ جنگل میں مزیدار پھلوں اور دوسری کھانے پینے کی چیزوں کے لےے گھوم رہا تھا۔ اگر چہ وہ بہت چھوٹا تھا مگر وہ بالکل بھی خوفزدہ نہیں تھا۔ اسے پتہ تھا کہ بہت سے بڑے بڑے جانور اسے اپنی خوراک بنانا چاہتے ہیں۔ لیکن اس کے لےے انہیں چالاک ہرن کو پکڑنا ہوگا جو قطعی نا ممکن تھا۔

اچانک چالاک ہرن کو کسی کے دہاڑنے کی آواز آئی۔ وہ یقینا ایک چیتا تھا۔
چالاک ہرن کیسے ہو تم؟ میں بہت بھوکا ہوں۔ میرے لےے کچھ کرو۔ دیکھو اگر تم چاہو تو میرے دو پہر کا کھانا بن سکتے ہو۔ لیکن چالاک ہرن بالکل چیتے کا کھانا نہیں بننا چاہتا تھا۔ آخر اس نے ادھر ادھر نظر دوڑائی اور اپنے ذہن سے کوئی ترکیب سوچنے لگا۔ اس نے ایک کیچڑ کا ڈھیر پڑا دیکھا۔
” لیکن چیتے میں تمہارے لےے کچھ نہیں کرسکتا۔ کیوں کہ یہ آج بادشاہ کا کھاناہے اور اس کی حفاظت کررہا ہوں۔“
” یہ کیچڑ۔“ چیتے نے حیرانی سے کہا۔

20 Nov 2023

لوک کہانی ۔ اگر ہم یکجان ہو جائیں

    

Kids Story 237 - Lok Kahani

 لوک کہانی

ایک دفعہ کا ذکر ہے کسی صحرا میں چڑیوں کا ایک خاندان رہتا تھا۔ انھوں نے گھاس پھونس میں انڈے دیے تھے جن سے بچے نکل آئے تھے۔ ایک ہاتھی کا بھی اسی صحرا میں بسیرا تھا۔ ایک دن ہاتھی اپنی پیاس بجھانے کے لیے دریا کی طرف جا رہا تھا کہ گھاس سے گزرتے ہوئے وہ چڑیوں کے چند بچوں کو کچل کر آگے نکل گیا۔ جب چڑیوں کومعلوم ہوا تو انہوں نے  اس سانحے پر اپنے اپنے انداز میں تبصرہ کرنا شروع کیا۔

ایک بولی: "قسمت میں یہی لکھا تھا۔" دوسری بولی: " کوئی چارہ نہیں، بس چلیں اور نباہ کریں۔" تیسری بولی: " دنیا ہمیشہ سے بدبختی کا گھر ہے۔" ایک چڑیا جو ان سب سے مختلف تھی اور بڑی بہادر تھی اور جس کا نام کاکُلی تھا، بولی: " مجھے آپ لوگوں کے ایک حرف سے بھی اتفاق نہیں۔ صحرا زندگی گزارنے کا ایک مقام ہے اور بہت عمدہ ہے۔ لیکن زندگی کے لیے حساب اور احتساب بھی لازمی ہے۔ یہ کیا بات ہوئی کہ کوئی ہاتھی آیا اور چڑیا کے بچوں کو پاؤںتلے روندتا ہوا یہ جا وہ جا۔"

چڑیا ں بیک زبان بولیں۔ " واقعی اُسے ایسا نہیں کرنا چاہیئے لیکن فی الحال وہ ایسا ہی کر رہا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم یہاں سے ایسی جگہ کوچ کر جائیں جہاں ہاتھی نہ ہو۔"

کاکُلی بولی: " یہ نہیں ہو گا۔