میرے سوہنے موہنے بچو! یہ کہانی ہے ایک پیاری سی چڑیا کی جس
کا نام تھا مسز چوں چوں۔مسز چوں چوں ایک بڑے سے آم کے درخت پر رہتی تھیں۔ ان کا
گھونسلا بہت صاف ستھرا اور خوبصورت تھا۔ اس میں نرم نرم روئی، سوکھے پتے اور رنگ
برنگے دھاگے لگے ہوئے تھے۔مسز چوں چوں کو اس ہرے بھرے جنگل میں رہتے ہوئے کئی سال
گزر ہو چکے تھے۔ وہ ہر سال بہار کے موسم میں اپنے درخت پر رہنے والی سبھی چڑیوں کی
دعوت کرتیں اور مزے کے چاول بناتیں۔
اس بہار کے موسم میں بھی ایک
دن مسز چوں چوں نے سوچا۔
"آہا!
کیوں نہ آج سب چڑیوں کو دعوت دی جائے!"
بس پھر کیا تھا!صبح سے ہی وہ تیاریوں میں لگ گئیں۔
انہوں نے چاول پکائے،
ننھے ننھے بیج رکھے، ٹھنڈا سا پانی پتوں کے کپ میں ڈالا اور چھوٹی چڑیوں کے لیے شہد کے قطرے بھی رکھ دیے۔
تھوڑی دیر بعد ایک ایک کر
کے چڑیاں آنے لگیں۔
"السلام
علیکم چوں چوں باجی!"
"واہ!
کیا خوشبو آرہی ہے!"
"اوہو!
چاول تو بڑے مزیدار لگ رہے ہیں!"
سب چڑیاں خوش خوش باتیں
کر رہی تھیں۔وہ آتی گئیں اور اپنی اپنی جگہ پر بیٹھتی گئیں۔
حتیٰ کہ مسز چوں چوں کا
بڑا ساگھونسلہ پوری طرح بھر گیا۔ کیا چھوٹی کرسیاں کیا ننھی چٹائیاں اور رنگ برنگ
کشن۔ سب پر چھوٹی بڑی چڑیاں بیٹھی تھیں اور گپ شپ کر رہی تھیں۔
اتنے میں ایک زور
دار آواز آئ۔
کاں! کاں! کاں! کائیں کائیں کائیں!
یہ آواز کچھ اتنی اچانک
تھی کہ دو ننھی چڑیاں کشن سے نیچے پھسل گئیں اور رونے لگیں۔
%20(1).jpg)


.jpeg)


.jpg)
.jpg)
.jpg)
