ہو سکتا ہے چہرے پر مسکراہٹیں ہوں اور لبوں پر وہ سب باتیں جو پروفیشنل ازم کے زمرے میں آتی ہیں! لیکن کیا کوئی جان سکتا ہے کہ میری امی ۔۔۔۔ اس وقت بھی میرے پاس ہوتی ہیں حالانکہ بظاہر وہ ریس کورس کے سرسبز قبرستان میں مدفون ہیں۔
میری امی! میری پیاری امی جن کا وجود تو کیا آواز تک میرے کانوں سے ابھی تک کوئی چھین نہیں سکا۔ چاہے وہ دلون کو اندر تک توڑنے والا کوئی لمحہ ہو یا آنکھوں کو چمک بخشنے والی خوشی! امی پاس ہوتی ہیں!
کبھی ایسا ہوتا ہے کہ لہجے الفاظ سے زیادہ دکھ دیتے ہیں۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کاٹ دینے والی خاموشی کاٹ ہی دیتی ہے۔ اور کبھی وہ موڑ جس میں آپ اندر سے کھڑے کھڑے گر جاتے ہیں! تب بھی میں کیا بتاوں! امی پاس ہوتی ہیں۔ کندھے پر ہاتھ رکھے۔ دونوں گالوں پر پیار دیتے ہوئے، امی پاس ہوتی ہیں۔
کون کہتا ہے وقت مرہم ہوتا ہے! جو کہتا ہے غلط کہتا ہے۔ وقت مرہم نہیں ہوتا۔ وقت توجہ ہٹا دیتا ہے۔ ورنہ امی اور ابو کی جدائی کا دکھ تو ویسا ہی ہے جیسا پہلے دن تھا۔
ہاں! میں اپنے ابو کی بیٹی ہوں۔ کوئی پوچھتا تو منہ سے امی ہی نکلتا۔ لیکن! کچھ باتیں کو ثابت ہونے کے لیے وقت چاہیے ہوتا ہے اور ابو کے بعد سے گزرے ہر ہر لمحے نے مجھے اندر سے کہا۔ تم ابو کی بیٹی ہو۔ کبھی نہ تھکنے والی، کبھی ہار نہ ماننے والی اور ہر مشکل کا ڈٹ کر سامنا کرنے والی۔
نئے چہروں پر جوش عمر کے بچوں کو کیونکر بتایا جائے کہ امی ابو کون ہوتے ہیں۔ وہ تو بس یہی کہتے ہیں۔ امی آپ کو کچھ نہین معلوم۔ ابو آپ نہین جانتے۔
نہین بیٹا! ہم جانتے ہیں اور ہمیں سب معلوم ہے۔ بس شاید آپ اس دور میں آگئے ہیں جہاں مشین انسان اور رشتوں سے زیادہ اہم ہوتی ہے۔ اور ہم اسی دور میں رہ گئے ہیں جہاں ہم امی ابو بڑی امی سب سے فضول بولنے پر ڈائیریکٹ پٹائی کھایا کرتے تھے!
بڑی امی گورنمنٹ سکول میں اردو کی استاد رہی تھیں۔ ان کی کوشش ہوتی تھی ہم سب بہن بھائی کی اردو لکھائی بہترین ہو جائے۔ وہ ایک سادہ سی پنسل سے بھی ایسی خوبصورت لکھائی کرتی تھیں کہ ہم حیران ہو جاتے۔ باجی اور فاتی نے ان سے لکھائی کے گر سیکھ لیے میں نہ سیکھ سکی۔ شاید اس لیے کہ میں نے برش اور رنگوں کے گر سیکھنے تھے۔
یاد آیا! ہر بار پینٹنگ بنانے پر بڑی امی پوچھا کرتی تھیں۔ یہ کیا بنایا ہے۔ کیوں بنایا ہے۔ میں انہیں سمجھاتی۔ پھر ان کی آنکھیں چمکتی لیکن بظاہر کہتیں۔ اچھا میں تیرا انتظار کر رہی تھی۔ میری سورت ملک سن لے۔
مجھے انہوں نے قرآن سے متعارف کروایا۔ قرآن کو زبانی یاد کرلینے کی لذت اور مٹھاس کیا ہوتی ہے؟ میں نے بچپن میں بڑی امی سے سورت ملک اور یاسین یاد کر کے سیکھ لیا تھا۔
ایک دن بہت گرمی تھی اور میں اپنے ٹیبل پر کتابوں میں مصروف۔ کہنے لگیں۔ مونو! پانی پلادو۔ میں گئی۔ ٹھنڈا پانی لا ک دیا۔ کہنے لگیں۔ اللہ نصیب اچھے کرے۔
کیا بتاوں! بڑی امی! نصیب اچھے ہو گئے تھے پر آپ نہیں ہیں! خوشی بھی ملی اور ٹوٹ ٹوٹ بھی گئے پر آپ کی تو پرچھائی نظر ہی نہیں آئی۔
ہاں! وہ دعا جو آپ نے ایک بار مجھے ڈائری پر لکھ کر دی تھی! اس سے آپ کا لمس آتا ہے آپ کی خوشبو آتی ہے۔
لوگ کہتے ہیں والدین دوبارہ نہیں ملتے۔ مل جاتے ہیں حشر کے میدان میں جیسے ہی ہم مرتے ہیں۔ سوچتی ہوں وہاں بھی امی دونوں گالوں پر پیار دیتے ہوئے ویلکم کریں گی! پھر تو مجھے بہت آگے جانا ہے اور کچھ ایسا کرنا ہے کہ امی ابو جب بھی دوبارہ ملیں فخر اور خوشی سے ان کی بانہیں میرے لیے وا ہوں اور ان کی آنکھوں میں کبھی بہ ختم ہونے والی چمک دمک ہو۔


.jpg)
%20(1).jpg)


.jpeg)

