2 Oct 2026

میری امی



 ہو سکتا ہے چہرے پر مسکراہٹیں ہوں اور لبوں پر وہ سب باتیں جو پروفیشنل ازم کے زمرے میں آتی ہیں! لیکن کیا کوئی جان سکتا ہے کہ میری امی ۔۔۔۔ اس وقت بھی میرے پاس ہوتی ہیں حالانکہ بظاہر وہ ریس کورس کے سرسبز قبرستان میں مدفون ہیں۔ 

میری امی! میری پیاری امی جن کا وجود تو کیا آواز تک میرے کانوں سے ابھی تک کوئی چھین نہیں سکا۔ چاہے وہ دلون کو اندر تک توڑنے والا کوئی لمحہ ہو یا آنکھوں کو چمک بخشنے والی خوشی! امی پاس ہوتی ہیں! 

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ لہجے الفاظ سے زیادہ دکھ دیتے ہیں۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کاٹ دینے والی خاموشی کاٹ ہی دیتی ہے۔ اور کبھی وہ موڑ جس میں آپ اندر سے کھڑے کھڑے گر جاتے ہیں! تب بھی میں کیا بتاوں! امی پاس ہوتی ہیں۔ کندھے پر ہاتھ رکھے۔ دونوں گالوں پر پیار دیتے ہوئے، امی پاس ہوتی ہیں۔ 

کون کہتا ہے وقت مرہم ہوتا ہے! جو کہتا ہے غلط کہتا ہے۔ وقت مرہم نہیں ہوتا۔ وقت توجہ ہٹا دیتا ہے۔ ورنہ امی اور ابو کی جدائی کا دکھ تو ویسا ہی ہے جیسا پہلے دن تھا۔ 

ہاں! میں اپنے ابو کی بیٹی ہوں۔ کوئی پوچھتا تو منہ سے امی ہی نکلتا۔ لیکن! کچھ باتیں کو ثابت ہونے کے لیے وقت چاہیے ہوتا ہے اور ابو کے بعد سے گزرے ہر ہر لمحے نے مجھے اندر سے کہا۔ تم ابو کی بیٹی ہو۔ کبھی نہ تھکنے والی، کبھی ہار نہ ماننے والی اور ہر مشکل کا ڈٹ کر سامنا کرنے والی۔ 

نئے چہروں پر جوش عمر کے بچوں کو کیونکر بتایا جائے کہ امی ابو کون ہوتے ہیں۔ وہ تو بس یہی کہتے ہیں۔ امی آپ کو کچھ نہین معلوم۔ ابو آپ نہین جانتے۔ 

نہین بیٹا! ہم جانتے ہیں اور ہمیں سب معلوم ہے۔ بس شاید آپ اس دور میں آگئے ہیں جہاں مشین انسان  اور رشتوں سے زیادہ اہم ہوتی ہے۔ اور ہم اسی دور میں رہ گئے ہیں جہاں ہم امی ابو بڑی امی سب سے فضول بولنے پر ڈائیریکٹ پٹائی کھایا کرتے تھے! 

بڑی امی گورنمنٹ سکول میں اردو کی استاد رہی تھیں۔ ان کی کوشش ہوتی تھی ہم سب بہن بھائی کی اردو لکھائی بہترین ہو جائے۔ وہ ایک سادہ سی پنسل سے بھی ایسی خوبصورت لکھائی کرتی تھیں کہ ہم حیران ہو جاتے۔ باجی اور فاتی نے ان سے لکھائی کے گر سیکھ لیے میں نہ سیکھ سکی۔ شاید اس لیے کہ میں نے برش اور رنگوں کے گر سیکھنے تھے۔ 

یاد آیا! ہر بار پینٹنگ بنانے پر بڑی امی پوچھا کرتی تھیں۔ یہ کیا بنایا ہے۔ کیوں بنایا ہے۔ میں انہیں سمجھاتی۔ پھر ان کی آنکھیں چمکتی لیکن بظاہر کہتیں۔ اچھا میں تیرا انتظار کر رہی تھی۔ میری سورت ملک سن لے۔ 

مجھے انہوں نے قرآن سے متعارف کروایا۔ قرآن کو زبانی یاد کرلینے کی لذت اور مٹھاس کیا ہوتی ہے؟ میں نے  بچپن میں بڑی امی سے سورت ملک اور یاسین یاد کر کے سیکھ لیا تھا۔ 

ایک دن بہت گرمی تھی اور میں اپنے ٹیبل پر کتابوں میں مصروف۔ کہنے لگیں۔ مونو! پانی پلادو۔ میں گئی۔ ٹھنڈا پانی لا ک دیا۔ کہنے لگیں۔ اللہ نصیب اچھے کرے۔ 

کیا بتاوں! بڑی امی! نصیب اچھے ہو گئے تھے پر آپ نہیں ہیں! خوشی بھی ملی اور ٹوٹ ٹوٹ بھی گئے پر آپ کی تو پرچھائی نظر ہی نہیں آئی۔ 

ہاں! وہ دعا جو آپ نے ایک بار مجھے ڈائری پر لکھ کر دی تھی! اس سے آپ کا لمس آتا ہے آپ کی خوشبو آتی ہے۔ 

لوگ کہتے ہیں والدین دوبارہ نہیں ملتے۔ مل جاتے ہیں حشر کے میدان میں جیسے ہی ہم مرتے ہیں۔ سوچتی ہوں وہاں بھی امی دونوں گالوں پر پیار دیتے ہوئے ویلکم کریں گی! پھر تو مجھے بہت آگے جانا ہے اور کچھ ایسا کرنا ہے کہ امی ابو جب بھی دوبارہ ملیں فخر اور خوشی سے ان کی بانہیں میرے لیے وا ہوں اور ان کی آنکھوں میں کبھی بہ ختم ہونے والی چمک دمک ہو۔

13 Jun 2026

ہاتھی میاں کے بارے میں انوکھی باتیں! آہا!



 کم مشہور، حیران کن اور دلچسپ حقائق ہاتھی میاں کے بارے میں! ایسے پوائنٹس جنہیں عام لوگ اکثر نہیں جانتے! آہا!
  1. ہاتھی زمین پر رہنے والا سب سے بڑا خشکی کا جانور ہے۔ افریقی ہاتھی کا وزن 6 سے 7 ٹن تک ہو سکتا ہے۔
  1. ہاتھی کی سونڈ (Trunk) اس کے جسم کا حیرت انگیز حصہ ہے، جس میں تقریباً 40,000 muscles ہوتے ہیں، جبکہ انسان کے پورے جسم میں صرف تقریباً 600 muscles ہوتے ہیں۔

4 Jun 2026

چنے چبا لو یا شہنائی بجا لو



شہیر دسویں جماعت کا طالب علم تھا۔ وہ ان بچوں میں سے نہیں تھا جو پڑھائی سے بھاگتے ہیں اور کتابوں میں بوریت محسوس کرتے ہیں۔ وہ شروع دن سے ہی انتہائی دلچسپی کے ساتھ پڑھا کرتا تھا خاص طور پر سائنس کے مضامین اس کے پسندیدہ تھے۔ اساتذہ اکثر اس کی مثال دیا کرتے تھے۔

شہیر کی امی کا خواب تھا شہیر فائٹر پائلٹ بنے۔ انہوں نے شہیر کے کھلونوں میں جہاز ہی جہاز لا کر دیے تھے تاکہ وہ ہمیشہ اپنا مقصد خاص رکھے اور قوم کا نام روشن کرے۔

اس سال جب  شہیر کی سالگرہ آ گئی تو اسے ایک ایسا تحفہ ملا جس کے حق میں شہیر کی امی بالکل نہیں تھیں۔ لیکن چونکہ وہ شہید کے چچاجان خاص طور پر دبئی سے لائے تھے انہیں خاموش رہنا پڑا۔

3 Jun 2026

فلسطینی بچے کی ڈائری ۔ قسط 5



میں احمد فلسطینی ہوں۔ میری عمر نو سال ہے۔

میں ایک خیمے میں رہتا ہوں۔ میرا پرانا گھر اب نہیں رہا، وہ ملبے میں بدل چکا ہے۔ اب یہی خیمہ میرا گھر ہے۔ یہ بات میں آپ کو دوبارہ اس لیے بتا رہا ہوں تاکہ میرے اپنے دل کو بھی اب یقین آجائے کہ میرا گھر میرا پیارا گھر اب ملبے کا ڈھیر ہے۔ 

رات کو میری چھوٹی بہن بار بار کہتی رہی، "احمد! صبح کب ہو گی مجھے بھول لگی ہے؟"
میں کچھ نہیں کہہ سکا۔ بس خاموش رہا۔

28 May 2026

مسز چوں چوں اور ضدی کوا

 


میرے سوہنے موہنے بچو! یہ کہانی ہے ایک پیاری سی چڑیا کی جس کا نام تھا مسز چوں چوں۔مسز چوں چوں ایک بڑے سے آم کے درخت پر رہتی تھیں۔ ان کا گھونسلا بہت صاف ستھرا اور خوبصورت تھا۔ اس میں نرم نرم روئی، سوکھے پتے اور رنگ برنگے دھاگے لگے ہوئے تھے۔مسز چوں چوں کو اس ہرے بھرے جنگل میں رہتے ہوئے کئی سال گزر ہو چکے تھے۔ وہ ہر سال بہار کے موسم میں اپنے درخت پر رہنے والی سبھی چڑیوں کی دعوت کرتیں اور مزے کے چاول بناتیں۔

اس بہار کے موسم میں بھی ایک دن مسز چوں چوں نے سوچا۔

"آہا! کیوں نہ آج سب چڑیوں کو دعوت دی جائے!"

بس پھر کیا تھا!صبح سے ہی وہ تیاریوں میں لگ گئیں۔

انہوں نے چاول پکائے، ننھے ننھے بیج رکھے، ٹھنڈا سا پانی پتوں کے کپ میں ڈالا اور چھوٹی چڑیوں  کے لیے شہد کے قطرے بھی رکھ دیے۔

تھوڑی دیر بعد ایک ایک کر کے چڑیاں آنے لگیں۔

"السلام علیکم چوں چوں باجی!"

"واہ! کیا خوشبو آرہی ہے!"

"اوہو! چاول تو بڑے مزیدار لگ رہے ہیں!"

سب چڑیاں خوش خوش باتیں کر رہی تھیں۔وہ آتی گئیں اور اپنی اپنی جگہ پر بیٹھتی گئیں۔

حتیٰ کہ مسز چوں چوں کا بڑا ساگھونسلہ پوری طرح بھر گیا۔ کیا چھوٹی کرسیاں کیا ننھی چٹائیاں اور رنگ برنگ کشن۔ سب پر چھوٹی بڑی چڑیاں بیٹھی تھیں اور گپ شپ کر رہی تھیں۔

اتنے میں ایک زور دار  آواز آئ۔

کاں! کاں! کاں! کائیں کائیں کائیں!

یہ آواز کچھ اتنی اچانک تھی کہ دو ننھی چڑیاں کشن سے نیچے پھسل گئیں اور رونے لگیں۔

7 Jul 2025

کیا شق القمر apparent splitting تھی؟



 دیکھیں شق القمر کا واقعہ جو ہوا ہے وہ اصل میں ہوا ہے یعنی واقعی چاند دو ٹکڑوں میں شق ہوا اور اس کا ایک ٹکڑا کوہ قیقعان نامی پہاڑ پر دیکھا گیا دوسرا ٹکڑا کوہ ابی قبیس پر۔ جبکہ کوہ حرا کا پہاڑ ان دو ٹکڑوں کے بیچ میں دیکھا گیا۔ 

(بحوالہ تفسیر فتح الرحمان)

شق کا معنی ہوتا ہے کسی چیز کو دو equal parts میں تقسیم کر دینا۔

پہلے میں یہ واضح کر دوں کہ ساحل عدیم اپنی ایک وڈیو میں جو بات کہہ رہے ہیں شق القمر کے متعلق وہ 

Apparent spitting 

ہے۔ یعنی اصل میں سلپٹ نہ ہونا لیکن ایسا نظر آنا۔ 

اور یہ ایسے ہوتا ہے جب ہم ایک planet پر کھڑے ہوں اور دوسرے planet یا چاند کو دیکھیں تو بیچ میں بلیک ہول کی گریوٹی کی وجہ سے مڑی ہوئی اسپیس کی وجہ سے وہ دوسرا پلینٹ یا چاند ہمیں دو الگ الگ جگہوں پر نظر آئے۔ اور ایسا لگے  جیسے وہ دو حصوں میں تقسیم ہو گیا ہو۔

29 Jun 2025

اللہ نور السماوات و الارض



 اللہ زمین و آسمان کو نور ہے۔ 

اس آیت کا مطلب سمجھتے ہیں کہ نور کیا ہے۔ 

نور ہم لغت میں کسی بھی ایسی کیفیت کو کہتے ہیں جو سورج چاند وغیرہ سے دوسری چیزوں پر پڑتی ہے۔ 

اب اگر آیت کے ظاہری معنی میں جائیں کہ اللہ نور ہے ۔ یعنی یہ جو نور ہمیں نظر آتا ہے یہ خدا ہے تو ناممکن ہے۔ 

کیونکہ اس کے کئی دلائل ہیں۔ 

پہلی یہ اگر یہ نور کوئی جسم ہے تو جس کا حادث ہونا یعنی بننا پیدا ہونا وغیرہ ضروری ہے اور اللہ کے لیے حادث ہونا ناممکن ہے ۔ وہ ازل سے ابد ہے۔ 

دوسرا یہ کہ اگر یہ نور کوئی صفت ہے تو تب بھی یہ خدا نہیں ہو سکتی کیونکہ اللہ کا وجود جو ہے وہ ہے اس میں کوئی اور صفت حلول نہیں کر سکتی یا داخل نہیں ہو سکتی۔ 

تیسرا یہ کہ

24 Mar 2025

qadr-kia-hey-asan-alfaz-me



 سورہ القدر، سورہ العلق کے بعد آتی ہے۔ 

مطلب یہ اشارہ دیا گیا کہ یہ تو پہلی وحی ہے آپ کے اوپر۔ یعنی العلق کی پانچ آیات۔ اصل میں ہم نے پورا کا پورا قرآن سماء الدنیاء کے بیت العزت پر۔ حاملین وحی فرشتوں کے ذریعے اتار دیا یے۔ وہاں سے اب جبرئیل تھوڑا تھوڑا کر کے آپ کے اوپر لاتے رہیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔

اصل میں تو پورا قرآن، کائنات کی تخلیق سے پہلے انسان کی تخلیق سے پہلے لکھ دیا گیا تھا لوح محفوظ پر۔ 

بس قدر کی رات میں، اس منصوبے کا فانئل مرحلہ ہوا۔ وہ یہ وہ سارا کا سارا قرآن لوح محفوظ سے حاملین وحی فرشتے نیچے سماء الدنیاء پر لے آئے۔ 

۔۔۔۔۔

یہ بات بھی طے ہے کہ پہلی وحی بھی لیلةالقدر ہی کی رات کو غار حراء میں نازل ہوئی تھی۔

۔۔۔۔۔۔ 

قدر کے دو معنی لیے گئے ہیں۔ 

6 Feb 2024

کھلونوں کی جنگ اور عقل منڈ ڈائنوسار ۔ 8

 


رات کے دس بج چکے تھے۔ آج ننھے بلاکس کے گھر دعوت تھی۔ اے بی سی والے بلاکس سبزیوں والے نوڈلز بنانے کے لیے بہت پرجوش تھے۔ لیکن انہیں کچھ دیر اور انتظار کرنا پڑا۔ 

"زوں زوں زوں ں ں ں!" 

دکان کے دروازے کے باہر ایک ٹرک آ کر رک گیا۔  سب کھلونے بہت غور سے دیکھ رہے تھے۔ دکان کا مالک اور دونوں ملازم ٹرک سے نئے ڈبے اتارتے گئے اور شوکیس کے پاس رکھتے گئے۔ پھر ایک ملازم نے ان نئے ڈبوں سے کچھ عیجب سے کھلونے نکالے۔ کچھ تو نیلے رنگ کے بدنما سے فوجی تھے جن کے سروں پر چھ کونوں والی سفید اور نیلی ٹوپیاں تھیں۔ ان سب کے ہاتھوں میں پستولیں تھیں۔

ایک اور ڈبے سے ایک خوبصورت سی مسجد  نکلی۔ اس کے اوپر ایک سرمئی اور ایک زرد رنگ کا گنبد بہت اچھا لگ رہا تھا۔ 

12 Dec 2023

Ghaza , غزہ کے لیے کیا کریں؟


 

مجھے نہیں معلوم کہ اس وقت 57 ملکوں کے سربراہان اور ان کی افواج کیا سوچ رہی ہیں؟ ہمارے ملک میں کہا جاتا ہے کہ قتال و جہاد صرف اہل اقتدار کی مرضی سے ہونا چاہیے۔ سو سب دینی و سیاسی راہنما ابھی تک بیانات یا امداد کی حد تک محدود ہیں۔

ایسا محسوس ہوتا ہے دنیا میں اس وقت کوئی مسلمان نہیں بچا۔ جو ہیں وہ فلسطین میں شہید ہو رہے ہیں بس۔ وہی ہیں مسلمان۔ باقی روئے زمین پر کوئی بھی مسلمان موجود نہیں یا کوئی ایک بھی مسلمان حکمران موجود نہیں جو اس قتل عام کو روک سکے۔ اگر واقعی میں کوئی اصل مسلمان ہوتا اس وقت تو اسرائیل کی یہ جرات ہوتی کہ چھوٹے چھوٹے بچوں کو شہید کرے؟ ان کا کھانا پانی بند کرے اور انہیں ایک ایک نوالے کا محتاج بنائے؟

آخری ترکی خلیفہ عبدالحمید یاد آتے ہیں جنہوں نے کہا تھا میں فلسطین کا ایک ذرہ بھی ان یہودیوں کو نہیں دوں گا۔

یہاں میں صرف اتنا کہنا چاہتی ہوں کہ یا تو آپ ظالم کا ہاتھ روکنے والوں میں سے ہوتے ہیں یا پھر ساتھ دینے والوں میں سے۔ ہم جو بس خاموش ہیں جان لیں کہ ہم ظالم ہیں۔ ہم جو اپنے آپ کو نیوٹرل ظاہر کر رہے ہیں جان لیں کہ ہم قاتل ہیں۔
یا آپ قاتل ہوتے ہیں یا پھر قتل ہونے والے۔ یا آپ ظالم ہوتے ہیں یا پھر وہ جن پر ظلم کیا جا رہا ہو۔ کیا ہم پر اس وقت ظلم کیا جا رہا ہے؟ نہیں۔
کیا ہم فلسطین کے قتل عام کو روک رہے ہیں؟ نہیں۔ اس کا مطلب ہم قاتل ہیں۔