شہیر دسویں جماعت کا طالب علم تھا۔ وہ ان بچوں میں سے نہیں تھا جو پڑھائی سے بھاگتے ہیں اور کتابوں میں بوریت محسوس کرتے ہیں۔ وہ شروع دن سے ہی انتہائی دلچسپی کے ساتھ پڑھا کرتا تھا خاص طور پر سائنس کے مضامین اس کے پسندیدہ تھے۔ اساتذہ اکثر اس کی مثال دیا کرتے تھے۔
شہیر کی امی کا خواب تھا شہیر فائٹر پائلٹ بنے۔ انہوں نے شہیر کے کھلونوں میں جہاز ہی جہاز لا کر دیے تھے تاکہ وہ ہمیشہ اپنا مقصد خاص رکھے اور قوم کا نام روشن کرے۔
اس سال جب شہیر کی سالگرہ آ گئی تو اسے ایک ایسا تحفہ ملا جس کے حق میں شہیر کی امی بالکل نہیں تھیں۔ لیکن چونکہ وہ شہید کے چچاجان خاص طور پر دبئی سے لائے تھے انہیں خاموش رہنا پڑا۔
اس دن گھر میں خوب رونق تھی۔
کیک کٹا، تصویریں بنیں، ہنسی مذاق ہوا۔
پھر ابو ایک ڈبہ لے کر آئے۔
"یہ تمہارے لیے ہے۔ نوید چچا لائے ہیں۔
شہیر نے ڈبہ کھولا تو اس کی آنکھیں چمک اٹھیں۔
"موبائل؟!"
وہ خوشی سے چیخ پڑا۔
"آہا! میرا اپنا موبائل؟"
"ہاں!" ابو ہنسے۔ "لیکن شرط یہ ہے کہ پڑھائی متاثر نہیں ہونی چاہیے۔"
"اوہ ابو! میں بچہ نہیں ہوں۔"
سب ہنس پڑے۔
لیکن شہیر کی امی صرف مسکرائیں۔ وہ دل میں سوچ رہی تھیں کہ نہ جانے شہیر کیسے بیلنس کرے گا موبائل جیسی مصروفیت کے ساتھ اپنی پڑھائی کو لیکن پھر انہوں نے سوچا۔
شہیر اب دسویں جماعت میں ہے۔ اس کو معلوم ہونا چاہیے کہ موبائل کا استعمال صرف ضرورت کے لیے ہونا چاہیے۔
اس رات شہیر دیر تک موبائل کو دیکھتا رہا۔
نیا فون، نئی گیمز، نئے فیچرز...
اسے لگ رہا تھا جیسے اس کے ہاتھ میں کوئی خزانہ آ گیا ہو۔
شروع شروع میں سب ٹھیک رہا۔ وہ بس ایک آدھ گھنٹے کے لیے موبائل میں گم رہتا پھر اپنی کتابیں کھول لیتا۔ جم بھی جاتا اور کرکٹ کھیلنے بھی۔
پھر ایک دن دوست کا پیغام آیا۔
"آ جا یار! ایک گییم کھیلتے ہیں۔"
"صرف پانچ منٹ۔"
شہیر نے جواب دیا۔ اس نے ساتھ ہی گھڑی دیکھی۔ یہ پارک میں کرکٹ کھیلنے کا وقت تھا۔
لیکن وہ پانچ منٹ ایک گھنٹہ بن گئے۔
پھر دو گھنٹے۔
پھر روزانہ کے دو گھنٹے۔ شہیر کے کرکٹ کے دوست اسے بھولنے لگے کہ وہ کتنی اچھا بالر تھا۔
اور آہستہ آہستہ کتابیں بھی میز پر پڑی رہنے لگیں۔
ایک شام دادی اس کے کمرے میں آئیں۔
پہلئ بار شہیر کی کچھ کتابیں گرد سے اٹی ہوئی تھیں۔
دادی نے ایک کتاب اٹھائی۔
اس پر انگلی پھیر کر بولیں،
"بیٹا، مجھے لگتا ہے آپ کی کتابیں کچھ اداس ہیں۔‘‘
شہیر کے دل کو کچھ ہوا۔ لیکن مسلسل نوٹیفیکیشن آرہے تھے گیم کے تو وہ کہنے لگا۔
"دادی! سب آتا ہے مجھے۔ بے شک آپ جہاں سے مرضی سن لیں۔‘‘
دادی نے دیکھا۔ شہیر نے انہیں سر اٹھا کر بھی نہ دیکھا تھا۔ نہ ہی بیٹھنے کو کہا اور نہ ہی ان سے کوئی فرمائش کی۔ وہ بے چین سی ہو گئیں۔
"بیٹا، جو کسان بیج بونے کے بعد کھیت پر جانا چھوڑ دے، اس کی فصل کبھی اچھی نہیں ہوتی۔"
لیکن شہیر نے بات کو مذاق میں اڑا دیا۔
اسے یقین تھا کہ وہ بہت ذہین ہے۔
اسے لگتا تھا کہ دوسرے بچے محنت کرتے ہیں کیونکہ وہ کمزور ہیں۔
اسے اب محنت کی ضرورت نہیں کیونکہ انہی کتابوں کو وہ دو دو بار یاد کر چکا ہے۔
پھر امتحان قریب آ گئے۔
اسکول کا ماحول بدل گیا۔ ہر طرف تیاری کی باتیں تھیں۔
لائبریری بھرنے لگی۔ دوست نوٹس مانگ رہے تھے۔
لیکن شہیر اب بھی گیمز کے نت نئے لیول مکمل کر رہا تھا۔
ایک دن اس کا دوست فہد حیران رہ گیا جب اس نے شہیر کے بیگ میں موبائل دیکھا۔ شہیر کو سکول موبائل لانے کی اجازت نہیں تھی لیکن ان نے چھپ کر لا رکھا تھا تا کہ بریک ٹائم سب کو دکھا سکے اور گیمز کے لیول بھی کھیل سکے۔
"یار، ڈر نہیں لگتا؟" فہد نے پریشانی سے پوچھا۔
"کس بات کا؟"
"بورڈ کے امتحان کا۔"
شہیر نے قہقہہ لگایا۔
"مجھے؟ بالکل نہیں۔"
لیکن اس رات پہلی بار اس نے دل کے کسی کونے میں ایک ہلکی سی بے چینی محسوس کی۔
وہ احساس بہت چھوٹا تھا...
اتنا چھوٹا کہ گیم کے شور میں دب گیا۔
پھر امتحان سے ایک رات پہلے...امی دودھ کا گلاس لے کر آئیں۔
"بیٹا، آج اچھی طرح دہرائی کر لینا۔صبح انگلش کا پیپر ہے ناں۔ یاد ہے ناں۔‘‘
"جی امی۔ میں نے سارے یونٹ دوبارہ سے دیکھ لیے ہیں۔" شہیر نے امی کی تسلی کے لیے جھوٹ بول دیا۔
امی مسکرائیں اور کہنے لگیں۔
’’شہیر صبح میتھس کا پیپر ہے۔‘‘ اور باہر چلی گئیں۔
شہیر پر جیسے گھڑوں پانی پھر گیا۔
’’اوہ! میں نے ڈیٹ شیٹ بھی صحیح سے نہیں دیکھی۔ ابھی نکال کر الماری پر لگاتا ہوں۔‘‘
وہ اٹھا اور بیگ سے ایک مڑا تڑا سا کاغذ نکالا۔ یہ شہیر کے سینڈ اپ کی ڈیٹ شیٹ تھی۔ اس نے آگے بڑھ کو ٹیپ کے ساتھ وہ الماری پر لگانا چاہی تو وہاں پہلے سے ایک اور ڈیٹ شیٹ لگی ہوئی تھی۔ یہ نویں کے بورڈ ایگزام کی ڈیٹ شیٹ تھی جس میں شہیر نے پچانوتے فیصد نمبر لیے تھے۔
’’کیا اس بار بھی میں پچانوے فیصد تک جاوں گا؟‘‘ اس نے اپنے دل سو پوچھا۔
دل سے جو جواب آیا وہ بڑا سچ تھا لیکن ساتھ ہی موبائل پر میسج آیا۔
"فائنل ٹورنامنٹ۔"
شہیر نے خود سے کہا،
"صرف ایک اور میچ۔ پھر میتھس کی تیاری کرتا ہوں۔‘‘
پھر ایک میچ اور۔
پھر ایک اور۔
گھر میں سب سو گئے۔
گھڑی نے بارہ بجائے۔
پھر ایک۔
پھر دو۔
باہر رات گہری ہوتی جا رہی تھی۔
اور شہیر کی میتھس کی کتاب بیگ میں رہ گئی۔
جب فجر کی اذان ہوئی شہیر گہری نیند سو رہا تھا۔
اگلے دن امتحان تھا۔
اور امتحان ہال میں بیٹھا شہیر بار بار ایک ہی بات سوچ رہا تھا۔
"یہ سوال تو مجھے آتا تھا لیکن..."
"یہ بھی.. اوہ!."
"یہ بھی..."
جوابات اس کے دماغ کے دروازے تک آتے اور واپس چلے جاتے۔
اسے پہلی بار احساس ہوا کہ صرف سمجھ لینا کافی نہیں تھا۔
دہرانا بھی بہت ضروری تھا لیکن جو وقت اس نے ضائع کر دیا تھا وہ واپس نہیں آسکتا تھا۔
امتحانات یونہی ختم ہو گئے۔
شہیر کی موبائل میں دلچسپی برقرار رہی۔
نتیجے کا دن آ گیا۔
امی بار بار دعا کر رہی تھیں۔
ابو خاموش تھے۔
اور دادی حسبِ معمول تسبیح پڑھ رہی تھیں۔
جب رزلٹ کھلا تو شہیر کی سانس رک گئی۔
اس نے دوبارہ دیکھا۔
پھر تیسری بار۔
پھر چوتھی بار۔
شاید کہیں غلطی ہو۔
شاید کسی اور کا رزلٹ ہو۔
لیکن نہیں۔
وہ کئی مضامین میں فیل ہو چکا تھا۔
اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑے۔
اسے نمبروں کا دکھ اتنا نہیں تھا...
جتنا اپنی ماں کے خواب ٹوٹنے کا تھا۔
ابو کے اعتماد کے ٹوٹنے کا تھا۔
اور دادی کی دعاؤں کا خیال۔
وہ کمرے میں جا کر خاموش بیٹھ گیا۔
پہلی بار موبائل اس کے ہاتھ میں تھا لیکن اسے دیکھنے کا دل نہیں کر رہا تھا۔
پہلی بار گیم کھلی ہوئی تھی...
مگر کھیلنے کا دل نہیں کر رہا تھا۔
اسی وقت دادی آ کر اس کے پاس بیٹھ گئیں۔
کافی دیر خاموش رہیں۔
پھر بولیں،
"رو رہے ہو؟"
شہیر نے سر ہلا دیا۔
"جی..."
دادی نے اس کے آنسو پونچھے۔
"اچھا بتاؤ، امتحان سے پہلے تم کیا کر رہے تھے؟"
"گیم کھیل رہا تھا۔"
"اور کامیابی بھی چاہتے تھے؟"
"جی۔"
دادی ہلکا سا مسکرائیں۔
پھر بولیں:
"بیٹا، بزرگوں نے ٹھیک ہی کہا ہے...
چنے چبا لو یا شہنائی بجا لو۔ یا تو ایک وقت میں خوب محنت کر لو یا پھر سستی کر لو اور وقت ضائع کر لو۔ نتیجہ ایک جیسا نہیں ہوتا۔"
شہیر خاموشی سے سنتا رہا۔
دادی بولیں:
"اگر وقت محنت کا ہو تو محنت کرو۔
اگر وقت جشن کا ہو تو جشن مناؤ۔
لیکن جو بچہ کھیت میں بیج بونے کے دن ناچ گانے میں گزار دے، وہ فصل کے دن خالی ہاتھ رہ جاتا ہے۔"
اس دن پہلی بار شہیر نے یہ محاورہ صرف سنا نہیں...
محسوس کیا۔
اور بعض سبق کتابیں نہیں سکھاتیں...
زندگی سکھاتی ہے۔ شہیر کو ملنے والا سبق ایسا تھا جو اسے فائٹر پائلٹ بننے کے بعد بھی ساری زندگی یاد رہا۔
وہ یہ کہ موبائل جیسے کئی چیزیں حتیٰ کئی ایک لوگ بھی آپ کے راستے میں آئیں گے اور آپ کو روکنے اور ہرانے کی کوشش کریں گے لیکن آپ نے ہارنا اور رکنا نہیں ہے۔ آگے بڑھتے رہنا ہے تاکہ منزل ٓائے تو آپ خالی ہاتھ نہ ہوں!
