3 Jun 2026

فلسطینی بچے کی ڈائری ۔ قسط 5



میں احمد فلسطینی ہوں۔ میری عمر نو سال ہے۔

میں ایک خیمے میں رہتا ہوں۔ میرا پرانا گھر اب نہیں رہا، وہ ملبے میں بدل چکا ہے۔ اب یہی خیمہ میرا گھر ہے۔ یہ بات میں آپ کو دوبارہ اس لیے بتا رہا ہوں تاکہ میرے اپنے دل کو بھی اب یقین آجائے کہ میرا گھر میرا پیارا گھر اب ملبے کا ڈھیر ہے۔ 

رات کو میری چھوٹی بہن بار بار کہتی رہی، "احمد! صبح کب ہو گی مجھے بھول لگی ہے؟"
میں کچھ نہیں کہہ سکا۔ بس خاموش رہا۔


صبح اٹھا تو واقعی ہم سب کو بہت بھوک لگ رہی تھی۔ امی نے دیکھا اور مجھے اپنے پاس بٹھا لیا۔ گھر میں کھانے کو بہت کم تھا۔ صرف اکڑے ہوئے دو روٹی کے ٹکڑے۔ کبھی کبھی ہم ایک وقت کا کھانا بھی مشکل سے کھاتے ہیں۔ پانی بھی ختم ہونے کے قریب ہے۔ ہم ہر قطرہ بہت احتیاط سے استعمال کرتے ہیں۔

پھر بھی ہم خیمے میں بیٹھ کر قرآن پاک حفظ کرتے ہیں۔

ہمارے استاد ایک چھوٹی سی جگہ پر ہمیں قرآن پڑھاتے ہیں۔ نہ کرسی ہے، نہ میز، نہ اچھی روشنی۔ لیکن ہم پھر بھی آیات یاد کرتے ہیں۔ جب میں قرآن پڑھتا ہوں تو مجھے لگتا ہے جیسے دل کے اندر سکون آ جاتا ہے۔

آج میں نے اپنی سورت دہرائی۔ میرے ہاتھ میں پرانا سا قرآن تھا جس کے کچھ صفحے بہت پرانے ہیں، مگر اس کی باتیں آج بھی میرے دل کو مضبوط کرتی ہیں۔

کبھی کبھی دور سے دھماکوں کی آواز آتی ہے تو ہم ڈر جاتے ہیں۔ چھوٹے بچے رونے لگتے ہیں۔ امی ہمیں گلے لگا لیتی ہیں اور کہتی ہیں: "اللہ ہمارے ساتھ ہے۔"

میں آسمان کی طرف دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ کیا دنیا کے دوسرے بچے بھی اسی آسمان کو دیکھ رہے ہوں گے؟

ان کے گھروں میں شاید روشنی ہو، کھانا ہو، پانی ہو اور وہ اپنے بستروں میں آرام سے سو رہے ہوں گے۔

اور ہم؟؟