28 May 2026

مسز چوں چوں اور ضدی کوا

 


میرے سوہنے موہنے بچو! یہ کہانی ہے ایک پیاری سی چڑیا کی جس کا نام تھا مسز چوں چوں۔مسز چوں چوں ایک بڑے سے آم کے درخت پر رہتی تھیں۔ ان کا گھونسلا بہت صاف ستھرا اور خوبصورت تھا۔ اس میں نرم نرم روئی، سوکھے پتے اور رنگ برنگے دھاگے لگے ہوئے تھے۔مسز چوں چوں کو اس ہرے بھرے جنگل میں رہتے ہوئے کئی سال گزر ہو چکے تھے۔ وہ ہر سال بہار کے موسم میں اپنے درخت پر رہنے والی سبھی چڑیوں کی دعوت کرتیں اور مزے کے چاول بناتیں۔

اس بہار کے موسم میں بھی ایک دن مسز چوں چوں نے سوچا۔

"آہا! کیوں نہ آج سب چڑیوں کو دعوت دی جائے!"

بس پھر کیا تھا!صبح سے ہی وہ تیاریوں میں لگ گئیں۔

انہوں نے چاول پکائے، ننھے ننھے بیج رکھے، ٹھنڈا سا پانی پتوں کے کپ میں ڈالا اور چھوٹی چڑیوں  کے لیے شہد کے قطرے بھی رکھ دیے۔

تھوڑی دیر بعد ایک ایک کر کے چڑیاں آنے لگیں۔

"السلام علیکم چوں چوں باجی!"

"واہ! کیا خوشبو آرہی ہے!"

"اوہو! چاول تو بڑے مزیدار لگ رہے ہیں!"

سب چڑیاں خوش خوش باتیں کر رہی تھیں۔وہ آتی گئیں اور اپنی اپنی جگہ پر بیٹھتی گئیں۔

حتیٰ کہ مسز چوں چوں کا بڑا ساگھونسلہ پوری طرح بھر گیا۔ کیا چھوٹی کرسیاں کیا ننھی چٹائیاں اور رنگ برنگ کشن۔ سب پر چھوٹی بڑی چڑیاں بیٹھی تھیں اور گپ شپ کر رہی تھیں۔

اتنے میں ایک زور دار  آواز آئ۔

کاں! کاں! کاں! کائیں کائیں کائیں!

یہ آواز کچھ اتنی اچانک تھی کہ دو ننھی چڑیاں کشن سے نیچے پھسل گئیں اور رونے لگیں۔


مسز چوں چوں نے گھونسلہ کا دروازہ کھولا اور باہر جھانکا۔

’’کائیں کائیں ! میں بھی آنا چاہتا ہوں۔ ارے! یہاں تو پارٹی ہو رہی ہے! واہ مزیدار بیج!‘‘ یہ کہہ کر کوا اسی شاخ پر بیٹھ کر گھونسلے کے اندر تک جھک کر دیکھنے لگا۔

’’چوں چوں ! چوں چوں! ہٹو۔

پیچھو ہٹو۔ تم کون ہو؟

 تمھیں تو نہیں بلایا!

تمھاری تو جگہ ہی نہیں ہے یہاں!‘‘

دعوت میں آئی چڑیوں نے چوں چوں کر کے طوفان مچا دیا۔

واقعی! کوے میاں آگئے تو جگہ تو بالکل نہیں ہے۔ پھر یہ تو سارا کھانا چند ہی لقموں میں کھا جائیں گے۔‘‘

مسز چوں چوں ایک پر کے سہارے کھڑے ہو کو سوچنے لگیں۔  

کوا اب  درخت کی  دوسری شاخ پر بیٹھ کر جھانکنے لگا۔

"اچھا! ٹھنڈا پانی بھی ہے یہاں تو!‘‘

چڑیاں ایک دوسرے کو دیکھنے لگیں۔

کسی نے بھی کوے کو دعوت نہیں دی تھی!

آخر مسز چوں چوں نے آہستہ سے کہا۔

"اممم۔۔۔ کوے میاں! آج صرف چڑیوں کی چھوٹی سی دعوت ہے۔آپ پھر کسی دن آئیے گا۔‘‘

لیکن ضدی کوا کہاں ماننے والا تھا۔وہ لالچی تھا اور جلد باز بھی۔ کہنے لگا۔

"ہوہوہو! کھانا ہو اور میں نہ آؤں؟ یہ تو زیادتی ہے!"

یہ کہہ کر وہ دھڑام سے گھونسلے کے کنارے پر آ بیٹھا۔

سوہنے موہنے بچو!کوا تھا ہی اتنا بھاری! کہ گھونسلا ہلنے لگا۔اور وہ بھی زور زور سے۔

ادھر چڑیاں گھبرائیں۔

"ارے آہستہ!"

"اوپ! میرا پانی گر گیا!"

"اوہو میرا بیج!"

لیکن تب تک دیر ہوچکی تھی۔

چررررر!

ڈھس! ڈھس! 

پہلے کچھ تنکے اور دھاگے نیچے گرے۔

پھر اور!

اور پھر اور!

اور پھر آواز آئی!

دھڑاااامم م م م!

پورا گھونسلا نیچے گر گیا!

اور ساتھ ہی...

چھپاک! چھپاک!

چاولوں کا بھرا پتہ اور شہد کے قطرے  سیدھا کوے کے منہ پر آ لگے۔

کچھ چاول اس کی چونچ پر چپک گئے، کچھ سر پر اور کچھ اس کی گردن میں پھنس گئے۔

"کاں! کاں! یہ کیا ہوا؟"

کوا گھبرا کر ادھر ادھر بھاگنے لگا۔

چڑیاں پہلے تو پریشان ہوئیں۔۔۔

پھر جب انہوں نے کوے کا حال دیکھا تو سب ہنسنے لگیں۔

"ہاہاہا! دیکھو تو صحیح!"

"چاولوں والا کوا!"

"ارے اس کی چونچ تو کھچڑی بن گئی!"

حتیٰ کہ مسز چوں چوں بھی ہنس پڑیں۔

کوا شرمندہ سا ہو کر بولا۔

"اممم۔۔۔ شاید مجھے زبردستی نہیں آنا چاہیے تھا۔"

مسز چوں چوں نے نرم لہجے میں کہا۔

"مہمان وہی اچھا لگتا ہے جسے بلایا جائے۔ اور دوسروں کی جگہ کا خیال رکھنا بھی ضروری ہوتا ہے۔"

کوا آہستہ سے بولا۔

"سوری۔۔ آپ کی دعوت میری وجہ سے خراب ہو گئی۔"

پھر اس نے اس دن  پہلی بار اچھا کام کیا۔

وہ نیچے گرے ہوئے تنکے، دھاگے اور روئی اٹھا اٹھا کر لانے لگا تاکہ گھونسلا دوبارہ بن سکے۔

چڑیاں حیران ہوئیں۔

"واہ بھئی واہ!"

’’بہت اچھی بات ہے!

شاباش کوے میاں!‘‘

چڑیاں اسے حوصلہ دلاتی رہیں اور خود بھی گھونسلہ تیار کرنے میں مسز چوں چوں کی مدد کرتی رہیں۔

تھوڑی دیر بعد نیا گھونسلا تیار ہوگیا۔

اس بار مسز چوں چوں نے مسکرا کر کہا۔

"اچھا مسٹر کائیں کائیں! اب آپ بھی تھوڑے سے چاول کھا لیجیے۔"

کوا خوش ہو گیا۔

لیکن اس بار وہ گھونسلے کے اندر نہیں بیٹھا۔

وہ شاخ پر آرام سے بیٹھ کر کھانا کھانے لگا۔

اور بچو!

اس دن کے بعد مسٹر کائیں کائیں نے کبھی کسی کی دعوت میں زبردستی گھسنے کی کوشش نہیں کی۔

ہاں البتہ۔۔۔

جب بھی بارش ہوتی اور اس کی چونچ پر کوئی چاول چپکتا، تو سب چڑیاں ہنس ہنس کر کہتیں:

"ارے دیکھو! کھچڑی والے کوا میاں آگئے!"

اور کوا شرمندہ ہو کر بس اتنا کہتا:

"کاں ک کک۔ کائیں! کائیں!۔۔۔ اچھا بس بھی کرو!"

........................................

بچو!ہمیں کبھی کسی کی خوشی یا محفل میں زبردستی نہیں جانا چاہیے۔

اور دوسروں کی جگہ اور آرام کا خیال رکھنا چاہیے۔

کیونکہ اچھے اخلاق ہی سب سے خوبصورت چیز ہوتے ہیں۔