دیکھیں، سب سے پہلے تو یہ ذہن میں بٹھا لیں کہ غزہ، جو فلسطین کا ایک شہر ہے، اس وقت مکمل طور پر ایک جنگ زدہ علاقہ بن چکا ہے۔ جب بھی کسی علاقے میں جنگ ہو رہی ہوتی ہے، وہاں پر خوراک کی شدید کمی، سیکیورٹی کے مسائل، اور علاج معالجے کی سہولیات کا فقدان معمول بن جاتا ہے۔ ہر طرح کی بدامنی، تکلیف اور غیر یقینی حالات کا وہاں پر تصور کیا جا سکتا ہے۔
غزہ میں حماس، جو ایک مزاحمتی تنظیم ہے، مسلسل اسرائیلی فوجیوں کے خلاف برسرِپیکار ہے۔ وہاں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کوئی گھر ہے یا بازار، گلی ہے یا مسجد — جہاں اسرائیلی فوج کو ذرا سا بھی شبہ ہوتا ہے کہ وہاں حماس کے مجاہدین موجود ہیں، وہاں بمباری کر دی جاتی ہے۔ اسی طرح حماس بھی ہر ممکن مقام پر جوابی کارروائی کرتی ہے۔
چونکہ غزہ ایک نازک اور جنگی کیفیت کا علاقہ ہے، اس لیے بدامنی وہاں کا معمول ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے ہمیں لمحہ بہ لمحہ تفصیلات مل رہی ہیں، حتیٰ کہ ہر چھوٹی بات بھی ویڈیو اور پوسٹ کی صورت میں ہمارے سامنے آ رہی ہے۔ کئی لوگ غزہ سے اپیل کرتے ہیں، ویڈیوز میں رو رو کر اپنے ملبے، کمزور بچوں کے چہرے اور تباہ حال گھروں کو دکھا کر مدد مانگتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے واقعی مستحق ہوتے ہیں، مگر کچھ لوگ اس حساس موقع کا ناجائز فائدہ بھی اٹھاتے ہیں۔ کیونکہ جہاں اچھے لوگ ہوتے ہیں، وہاں برے بھی ہوتے ہیں۔
اب ہو یہ رہا ہے کہ ہر تفصیل، ہر چیخ و پکار، ہر پوسٹ، ہر ویڈیو ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑتی ہے۔ اور اکثر ان ویڈیوز میں کیپشن ہوتا ہے: "اے مردہ ضمیر کے لوگو، تم کچھ نہیں کر رہے!"
یہ جملے پڑھ کر پہلا ردِعمل بےبسی کا ہوتا ہے۔ انسان خود کو کمزور اور بےبس محسوس کرنے لگتا ہے۔ مگر کچھ دن بعد ایک عجیب سا جذبہ پیدا ہوتا ہے کہ اب ان ویڈیوز کا وہی اثر نہیں رہا — جیسے دل مردہ ہو گیا ہو۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم مردہ ضمیر نہیں ہیں۔ ہم بےحس نہیں ہیں۔ نہ میں، نہ آپ، نہ ہمارے رشتہ دار۔ ہم پرامن علاقوں میں رہنے والے لوگ ہیں، جن پر اپنی ذمہ داریاں ہیں۔ ہمیں اپنے بچوں کو پالنا ہے، گھریلو اخراجات، بل، گروسری اور دیگر ذمے داریاں نبھانی ہیں۔ ہم ایک جنگ زدہ علاقے میں نہیں رہتے، لیکن ہمارے دل وہاں کے درد سے الگ نہیں ہیں۔
یہ بات سمجھنے کی ہے کہ اگر آپ ایک استاد ہیں اور بچوں کو اسلام، قرآن، اخلاق، سائنس یا دنیا کے دیگر مفید علوم سکھا رہے ہیں — تو آپ فلسطین کی مدد کر رہے ہیں۔ کیونکہ آپ ایک ایسی نسل تیار کر رہے ہیں جو ظلم کے خلاف کھڑی ہو سکے۔
اگر آپ ڈاکٹر ہیں اور اپنے مریضوں کی ایمانداری سے خدمت کرتے ہیں، تو آپ فلسطین کی مدد کر رہے ہیں۔
چونکہ اپ ایک اچھے اور محنتی مسلمان ہیں اور اپنے مریضوں کے لیے ایک اچھا نمونہ بن کر کے سامنے اتے ہیں اور معاشرے میں بہت ہی بھلائی کا کام کر رہے ہیں۔
اگر آپ اپنے والدین کی خدمت کر رہے ہیں، بچوں کی تربیت کر رہے ہیں، گھر چلا رہے ہیں، تھک جاتے ہیں مگر نیت یہی ہوتی ہے کہ معاشرہ بہتر بنے — تو آپ فلسطین کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
حدیث میں آیا ہے کہ "امت مسلمہ ایک جسم کی مانند ہے"۔ اس حدیث کو اکثر طعنہ دینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، لیکن یہ طعنہ نہیں ہے — بلکہ نبی کریم ﷺ نے امت کی خوبصورتی بیان کی تھی کہ مسلمان اتنے نرم دل اور حساس ہوتے ہیں کہ ایک حصے کے درد کو دوسرے حصے کے دل بھی محسوس کرتے ہیں۔
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان چاہے وہ کسی بھی براعظم میں رہتے ہوں وہ ایک دوسرے کا دکھ ایک دوسرے کا درد نہ صرف ایک دوسرے کا دکھ اور درد بلکہ ایک دوسرے کی خوشی اور ایک دوسرے کے لیے مسرد بھی ایک ساتھ محسوس کرتے ہیں۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ایک مسلمان نہایت حساس اور درد مند دل کا مالک ہوتا ہے اور وہ اپنے دوسرے مسلمان بھائی کو دکھ میں دیکھتا ہے تو اداس ہو جاتا ہے۔ اس حدیث کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک مسلمان اپنی خوشیوں میں دوسرے مسلمانوں کو بھی شامل کرتا ہے یہ حدیث نہایت ہی پوزیٹو میننگ لیے ہوئے ہے لیکن ہم ہمیشہ اس حدیث کو ایک منفی تاثر کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔
تو اگر آپ کی آنکھوں سے فلسطین کے بچوں کے لیے آنسو نکلتے ہیں، تو جان لیں کہ آپ کا ضمیر زندہ ہے، آپ کا دل زندہ ہے، آپ ایک حساس انسان ہیں۔
میری درخواست ہے ان تمام لوگوں سے جو سوشل میڈیا پر ہر لمحہ کی ویڈیو اور ہر چیخ و پکار ہم تک پہنچاتے ہیں:
ہمیں تفصیلات نہ بھی دیں تو ہم جانتے ہیں کہ غزہ ایک جنگ زدہ علاقہ ہے۔ وہاں یتیم بچے ہیں، اجڑی ہوئی مائیں ہیں، اور بےشمار قربانیاں ہیں۔ ہم سب کے دل ان کے ساتھ ہیں۔
اور ان شاء اللہ! ہم ایک ایسی نسل تیار کریں گے جو ظلم کے خلاف ہمیشہ آواز بلند کرے گی۔ ایک ایسی امت جو مظلوم کا ساتھ دے گی، اور کسی بھی قیمت پر حق کہنے سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔
